ہفتہ , جنوری 18 2020
تازہ ترین
Home / سائنس اور ٹیکنالوجی / مصر کی ایمن کا 242 کلو وزن کم

مصر کی ایمن کا 242 کلو وزن کم

مصر کی ایمن کو جب علاج کے لیے انڈیا لایا گیا تھا تو انھیں ہسپتال لیجانے کے لیے کرین کا استعمال کیا گیا لیکن اب وہ برسوں بعد اپنے بیڈ پر بیٹھ سکتی ہیں۔
واضح رہے ایمن کا وزن 500 کلو تھا جس میں اب تک 242 کلو وزن کلو کمی لائی جا چکی ہے. اور ان کو کرین کے ذریعے انکو گھر سے نکالا گیا تھا.
دو ماہ قبل ممبئی کے سیفي ہسپتال کے ڈاکٹر مضفل لكڑاوالا کی قیادت میں ان کی سرجری ہوئی تھی۔
ان مصری خاتون کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ آپریشن سے قبل 500 کلوگرام وزن کے ساتھ وہ دنیا کی سب سے وزنی خاتون تھیں لیکن وزن کم ہونے کے ساتھ اب ایسا نہیں ہے۔
36 سالہ مصری خاتون ایمان احمد العبدالآتی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے ممبئی لائی گئی تھیں اور انھیں سیفی ہسپتال میں داخل کیا گيا تھا۔
ایمان احمد عبدالآتی کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے 25 سال تک وہ اپنے گھر سے نہیں نکل پائیں۔
سیفی ہسپتال کا کہنا ہے کہ وزن کم ہونے کی وجہ سے اب وہ وہیل چیئر پر زیادہ وقت تک بیٹھ سکتی ہیں۔ ہسپتال نے سرجری کی بعد کی ان کی کچھ تصاویر بھی جاری کی ہیں۔
ڈاکٹر لكڑاوالا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایمان احمد کا وزن بتدریج کم ہو رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ بچپن میں سٹروک کی وجہ سے اب بھی ان کے جسم کا ایک حصہ مفلوج ہے اور انھیں بولنے اور کچھ نگلنے میں ابھی بھی پریشانیوں کا سامنا رہتا ہے۔
ڈاکٹر لکڑوالا کے مطابق مریض کے خاندان نے بتایا کہ جب وہ 11 سال کی تھیں تو ان کا وزن اتنا زیادہ تھا کہ وہ کھڑی نہیں ہوسکتی تھیں اور رینگ کر چلتی تھیں۔
ہسپتال کو اس بات کا انتظار ہے کہ ایمان احمد کا وزن اتنا کم ہو جائے کہ وہ سی ٹی سکین مشین میں فٹ ہو سکیں اور پھر اس بات کا پتہ لگایا جا سکے کہ آخر سٹروک کی وجہ کیا تھی۔
عبدالآتی کے خاندان کا کہنا تھا کہ پیدائش کے وقت ان کا وزن پانچ کلو گرام تھا اور ان میں ایلیفنٹیاسس کی تشخیص ہوئی تھی۔ اس بیماری میں بازو اور جسم کے دوسرے حصے انفیکشن کی وجہ سے پھول جاتے ہیں۔

About نیوز 9

Check Also

بیٹری کے بغیر چلنے والا موبائل ایجاد

واشنگٹن: امریکی ماہرین نے موبائل فون صارفین کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا اسمارٹ …

جواب دیں