جمعہ , اکتوبر 18 2019
تازہ ترین
Home / دلچسپ و عجیب / 36 برسوں کی محنت سے گاؤں میں پانی لانے والا باہمت چینی

36 برسوں کی محنت سے گاؤں میں پانی لانے والا باہمت چینی

بیجنگ: باہمت چینی شخص نے مسلسل 36 برس تک محنت کرکے تین پہاڑوں سے گزارنے کے بعد آخر کار اپنے گاؤں تک پانی پہنچادیا۔ ہوانگ دافا نامی یہ چینی شہری دور افتادہ گاؤں کے سردار ہیں جہاں تین عشروں قبل پانی کی شدید قلت تھی لیکن ہوانگ نے تہیہ کرلیا کہ وہ یہاں پانی ضرور پہنچائیں گے۔ اس کے لیے انہوں نے 36 سال قبل ایک چھوٹی نہر کھودنے کا ارادہ کیا جو کہنے کو تو صرف 10 کلومیٹر طویل ہے لیکن وہ 3 دشوار گزار پہاڑوں سے گزرتی ہے۔ 1959 میں ہوانگ نے نہر کھودنے کا آغاز کیا اور مسلسل 36 سال تک آگے بڑھتے رہے، اس دوران وہ اونچے نیچے 3 پہاڑوں سے بھی گزرے اور اب ان کےگاؤں میں پانی آرہا ہے۔ اس سے قبل گاؤں میں پینے کا پانی تک نہ تھا اور زراعت کے پانی کا تو سوال ہی نہ تھا۔ اس کے بعد پانی کی راشن بندی کی گئی اور پھر 330 مربع میٹروسیع چاول کا آخری کھیت بھی سوکھ کر ختم ہوگیا۔ ہوانگ نے گاؤں والوں کو یقین دلایا کہ وہ 10 کلومیٹر دور دوسرے گاؤں سے پانی لائیں گے جس پر لوگوں نے کہا کہ یہ ایک ناممکن عمل ہوگا لیکن کوئی دوسرا راستہ موجود نہ تھا۔ اس کام کا سب سے سخت مرحلہ پہاڑ میں 100 میٹر لمبی سرنگ کھودنا تھی جسے تمام دیہاتیوں نے اپنے ہاتھوں سے کھودا جس میں 10 برس لگے۔ اس کے لیے خود ہوانگ نے ایک یونیورسٹی میں پانی کے بہاؤ اور ندیوں کی تعمیر کا علم حاصل کیا اور اسے آزمایا۔ 1990 میں وہ دوبارہ تعلیم حاصل کرکے گاؤں واپس آیا اور دوستوں سے دوبارہ کوشش کرنے کو کہا اس کے بعد نہر کھودنے کا کام تیزی سے آگے بڑھا۔ 1995 میں 7200 میٹر نالی اور اس کی 2200 میٹر طویل شاخ تیار تھی اور گاؤں میں پانی آنا شروع ہوگیا تھا اور اب بہتا ہوا پانی دو دوسرے گاؤں کو بھی پہنچنے لگا تھا۔ پانی نے گاؤں میں کھیتی باڑی کی صورت میں خوشحالی کا عہد شروع کردیا۔ اب یہاں موجود 1200 افراد پانی سے فائدہ اٹھارہے ہیں اور سالانہ 40 لاکھ کلو تک چاول اگاتے ہیں۔

About نیوز 9

Check Also

ڈینور: سالانہ کامک کنونشن کا آغاز

امریکی شہر ڈینور میں سالانہ کامک کنونشن کا آغاز ہوگیا،جس میں شریک افراد نے فلمی …

جواب دیں