ہفتہ , اگست 31 2019
Home / پاکستان / پاکستان بھارت سے جنگ کیوں نہیں کررہا ؟

پاکستان بھارت سے جنگ کیوں نہیں کررہا ؟

اسرائیل کسی بھی صورت 2020 تک نیوورلڈ آرڈر کا قیام چاہتا ہے تاکہ دجال کا راستہ صاف کیا جاسکے

لیکن پاکستان اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے.

میری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ پاکستان کے حوالے سے جنگوں کو دنیاوی نظر کے ساتھ ساتھ مذہب کی نظر سے بھی ضرور دیکھا جائے کیونکہ ہمارا انڈیا سے اسرائیل تک کسی سے کوئی دنیاوی جھگڑا نہیں ہے بلکہ ہماری جنگ مذہب کی بنیاد پر ہے. اگر آج قوم مایوس نظر آرہی ہے تو صرف اس وجہ سے کہ ہم ان جنگوں کو باقی دنیا کی طرح صرف دنیاوی جنگ ہی سمجھ رہے ہیں.

آئیں تھوڑا اس طرف بھی نظر ڈالتے ہیں۔ جیسا کہ پاکستان میں انڈیا کی کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے صورتحال جاری ہے کہ فوج اور حکومت معاملات کو ٹھنڈے دماغ سے سوچ سمجھ کر حل کررہے ہیں جبکہ ہمارا ایک طبقہ جو کہ پاک فوج تک سے حجت تمام کیے بیٹھا ہے کہ مطابق پاک فوج کو فوری طور پر کشمیر میں فوجیں اتار کر جنگ شروع کردینی چاہیے ایٹم بم پھینک دینا چاہیے یہ وہ بس یہی کچھ۔
یہ خواہش میری اپنی بھی اور یقیناً پاک فوج کے ہر آفیسر اور ہر جوان کی اور موجودہ حکومت کی بھی ہوگی لیکن چونکہ جو پاک فوج انٹلیجنس رپورٹس اور ملکی و غیرملکی صورتحال کے مطابق فیصلے لیتی ہے اس لیے وہ اپنی اس خواہش کو فی الحال دبا کے بیٹھے ہیں یا شاید جو ہاتھ پاؤں مارے گئے ہیں انکا نتیجہ دشمن کی چیخوں کی صورت میں ان شاءاللہ سامنے آرہا ہے۔

کچھ وقت پہلے میں آپکو بتایا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے فوجی ہیڈکوارٹر کا نہایت ہی خاموشی سے دورہ کیا تھا جہاں پر اسرائیلی جنرلز اور موساد کے سربراہان موجو دتھے۔ یہاں ایک بات اور واضح کرتا چلوں کہ اسرائیل کی ساری جنگ مذہب کی بنیاد پر ہے اور اس کے لیے اسرائیل کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے یہاں تک کہ اسرائیلی عوام تک بھی اپنی اس دہشتگردی کو مذہبی جنگ کا روپ دیتے ہیں بلکہ سرِعام گردانتے نظر آتے ہیں۔ خیر اسرائیلی وزیرِاعظم کا یہ دورہ کئی گھنٹوں پر مشتمل تھا جس میں انہوں نے کئی اہم معاملات اٹھائے اور اپنے اردگرد ممالک جن میں شام، لبنان اور عربوں کی صورتحال اور پاکستان کے حوالے سے اہم معاملات پر بات چیت ہوئی۔

ان سب معاملات کی کڑی پھر ڈٖونلڈ ٹرمپ سے جا ملتی ہے ابھی حالیہ دنوں میں آپ لوگوں نے سُنا ہوگا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان آنے والے یہودی مسیحا دجال کو لے کر بات چیت ہوئی ہےجس میں ٹرمپ نے آنے والے مسیحا دجال کے بارے میں نیتن یاہو سے استفسار کیا تھا جس کے جواب میں اسے کہا گیا کہ تم نے اس خبیث دجال کی آمد کے لیے کیا کیا اقدامات اٹھائے ہیں یا تم اپنی طرف سے اس کی آمد کی تیاری مزید تیز کردو مطلب کہ اسلام اور پاکستان کو صاف کرو کہ دجال آسکے۔
ہم اسے اپنی کم عقلی کہیں یا آزادخیالی کی دین کے آج ہمارے سامنے دجال کا موضوع محض ایک مذاق سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں رہا۔ دجا ل کی آمد کو ہم دقیانوسی خیالات اور دیہاتی لوگوں والی باتیں کہہ کر رد کردیتے ہیں لیکن اپنےپیارے نبی ﷺ نے ہمیں دجال سے جتنا محفوظ رہنے کاا ور اس خبیث کی خباثت کے بارے جتنا کھل کر بتایا یقیناً یہ ہمارے لیکن اہم ترین موضوع خیال کیا جاتا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ دنیا میں ہر فساد ہر شیطانی کی وجہ یہی ہے۔ خیر آتے ہیں آگے موضوع کی طرف۔
امریکہ آج سے ہی نہیں ہمیشہ سے دجال کا بہت بڑا مہرہ رہا ہے جسے وقت کے ساتھ ساتھ یہودیوں نے اپنے استعمال میں رکھااور کام لیتے رہے۔ڈک چینی اور صدر بُش باقاعدہ کھلے عام اس بات کااعتراف کرتے تھے کہ وہ دجال سے ملے ہیں اور وہی انہی حکم دیتا ہے۔مسلمانوں کے خلاف دہشتگردی کے نام سے چھڑی جنگ بھی اسی ڈک چینی اور بُش کی مرہونِ منت ہے۔
افغانستان جنگ میں بھی امریکا کا مقصد پاکستان کو زیرِ عتاب لانا تھا لیکن جس مشرف کو آج منہ بھر بھر کے گالیاں دی جاتی ہیں اسی مشرف نے کشمیر کی بات کی تھی کیونکہ پاک فوج کو اللہ نے وہ صلاحیت دی ہے کہ جہاں دوسری فوجیں ایک ہفتےبعد کا منصوبہ بناتی ہیں وہیں پاک فوج آنے والے وقت کے پندرہ سال بعد کا سُوچتی ہے۔ مشرف جانتا تھا کہ آنے والے وقت میں کشمیر کے مسلے پر اگر امریکہ کو آڑے ہاتھوں نہ لیا تو کشمیر فلسطین بن جائے گا اور عالمی طاقتیں فلسطین کے جیسے ہی آنکھیں موندلیں گی اور بھارت کو شے مل جائے گی آج بےشک امریکہ منافقت پہ ہی اڑا ہے لیکن امریکا کی مجبوری ہے کہ اس پاکستانی مؤقف کی حمایت کرنا پڑرہی ہے۔
اسرائیل معاشی قبضے کے ساتھ ساتھ دُنیا کےکمزور ممالک میں امریکا کے ذریعے پراکیسز کھیل کر خاموشی سے قابض ہوتا جارہا ہے۔ پاکستان جب سے بنا ہے اسرائیل کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔ تب سے ہی پاکستان کو مختلف قسم کی پراکیسز، سیاسی خلفشار، بھارت سے جنگوں کا سامنا رہا ہے۔ آتے آتے وقت پاکستان کی ایٹمی قوت بننے تک آپہنچا یہی ایٹمی قوت کہ جسے ایٹمی صلاحیت سے محروم کروانے کے لیے اسرائیل نے بھارت کے ساتھ ملکر حملے بھی کرنے چاہے، پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین باقاعدہ استعال کی لیکن بفضلِ خدا پاکستان کے گمنام سپاہیوں نے انہیں بناء ہاتھ لگائے نیست وبابود کردیا۔

اسرائیل ایماء پر کئی بارپاکستان کو مشکلات سے دوچار کرنے کی کوشش کی گئی پہلے بھارت کے ساتھ جنگوں میں ، پھر افغانستان جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کی گئی، سیاستدانوں کے ذریعے ملک کو دُو ٹکڑے کروایا گیا، کئی دہائیاں پاکستان فرقہ واریت کی آگ میں جھلستا رہا، صوبائی تعصب کو ہوا دی گئی، مذہبی منافرت پھیلائی گئی لیکن پاک فوج ہمیشہ سے جذباتی ہونے کی بجائے مشکل ہی سہی لیکن طویل المدت اور کثیرالمقاصد فوائد اور حل کو ترجیح دی۔ وجہ صرف دشمن کا پھینکا جانے والا جال کے کسی طرح پاکستان کوئی ایسا فیصلہ کرے کہ انہیں پاکستان کے خلاف اپنے مقاصد حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔

پاکستان کے خلاف دشمنوں نے ہر محاذ کے بعد ایک محاذ کھولا اور ہر بار ہر محاذ کا نشانہ پاک فوج اور پاک کی آخری دفاعی لیکر آئی ایس آئی ہی رہی۔
چلیں اب آجاتے ہیں پھر سے موجودہ حالات کی جانب 2019 کا سال آخری مہینوں کی جانب رواں دواں ہے 2020کا سال نیو ورلڈ آرڈر کا سال ہے ۔ ٹرمپ پوچھتا ہے کہ دجال کب آرہا ہے اور یہ بات پہلے کہہ چکا ہوں کہ اب نہیں بلکہ جس دن امریکا نے اسرائیل میں اپنا سفارتخانہ قائم کیا تھا اور ٹرمپ اسرائیلی دورے پر تھا تب ہی یہ سوال کیا گیا تھا۔ اسرائیل کے پاس وقت کم ہے مگر کام بہت ذیادہ۔ یہ بھی سُوچیں ناں کہ جو کام انڈیا نے 70 سالوں میں نہیں کیا وہ ایک ہفتے میں کیسے کرگیا؟ یہ ایک پوری گیم تھی جو کہ شاید ہماری قوم نہ جان سکے لیکن ہمارے وطن کے محافظ دشمن سے دماغی صلاحیت میں بھی کہیں آگے ہیں الحمدللہ۔ امریکا نے کچھ گیم یوں کھیلنا تھا کہ پاکستان کو ثالثی کی پیشکش تو کردی لیکن دوسری جانب انڈیا کو بھی یہ کہہ دیا گیا تھا کہ انڈیا جلد از جلد ایسے اقدامات کرے کہ پاکستان کو جنگ میں الجھا دیا جائےاور جوں ہی پاکستان جلدبازی میں کوئی مہم جوئی کرے گا پاکستان کو بھارت پر حملہ کرنے اور امریکی ثالثی کے باوجود کاروائی کرنے کے الزام میں کھڈے لائن لگادیا جائے گا۔
اس میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا کہ انڈیا کے ہاتھ کشمیر پر اور مضبوط پڑجاتے اور کشمیر کا جو رُخ آج دُنیا کو پاکستا ن نے دکھا دیا وہ رُخ بھی دنیا نہ دیکھ پاتی بلکہ اُلٹا پاکستان کی جارحیت اور عالمی قوانین کا نام دیکر ایک تو ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو بلیک لسٹ کردیا جاتا، پاکستان کو دہشتگرد قرار دلواکر ڈی نیوکلیرائزڈ کرنے کی کوشش کی جاتی، عالمی پابندی کا سامنا کروایاجاتا لیکن صرف ایک چیز پر بات پہ آواز نہ اٹھائی جاتی اور وہ ہوتی بھارتی دہشتگردی جس پہ آج دُنیا بھر میں ہر عمر ہر مذہب ہر ملک کے لوگ آواز اٹھارہے ہیں۔ جبکہ بھارت کے پاس رہا سہا اور بچا کچھ ایک کشمیر کا ہی پہلو تھا جس کے ذریعے پاکستان کو بلیک میل کرسکتا تھا جو کہ بھارت کے اپنے گلے پڑ گیا۔

اب یہاں سوچنے کی بات یہ بھی ہے ناں کہ آخر اتنی جلدی ہی کیوں تو یہ جلد تھی پاکستان کو جنگ میں الجھا کر اسرائیل کے عربوں کی جانب بڑھتے قدم، اسرائیل اور امریکی چال اور پاکستان کی جنگ کی بجائے خاموشی سے مقاصد کی تکمیل نے یہ چال ناکام بنادی جس کا واضح ثبوت پرسوں رات اسرائیل کا لبنان پر حملہ تھا جسے لبنان سے عرب تک آل آؤٹ آپریشن کہاجائے توبجاہوگا۔ اسرائیل چاہتا تھا کہ پاکستان اس نہ ختم ہونے والی جنگ جسے شاید تاریخ کی خونریزجنگ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا میں الجھ جائے گا تو اسرائیل مقدس مقامات پر اپنے قبضے کا خواب بھی پورا کرلے گا اور نیوورلڈ آرڈر کے آڑے آیا پاکستان بھی یا تو جنگ میں خستہ حال ہوجائے گا اور یا مل کر اس کے ایٹمی دانتوں کو اکھاڑ پھینکا جائے گااور اسے مفلوج کردیا جائے گالیکن پاکستان کےنے دشمن کی یہ چال بھانپ لی اور انہی کی چال انکے منہ پہ دے ماری۔گوکہ پاکستان نے کشمیر کے حوالے سے دُنیا کے سامنے بڑے ٹھنڈے مزاج سے کام لیا لیکن پاکستان نے اس بار کشمیر کو فیصلہ کن معرکہ بنایا ہے۔
آج کشمیر کی صورتحال کشیدہ ہے لیکن اتنا یاد رکھیے کسی جلدبازی کی صورت میں کشمیر کی صورتحال موجودہ صورتحال سے کہیں ذیادہ بدترین ہوتی آج انڈیا جو کچھ کررہا ہے وہ شاید اس کا ایک فیصد بھی نہ ہو جو وہ کرنا چاہ رہاہے کیونکہ پاکستان نے یہ معاملہ ساری دُنیا کے سامنے رکھ کر انڈیا کا بدترین روپ دُنیا کو دکھا دیا اور اب حالت یہ ہے کہ دُنیا کے کونے کونے سے انڈیا کو ذلت و رسوائی کا سامنا ہے۔

فوراً جنگ کی صورت میں دُنیا کی نظریں پاک بھارت جنگ پر اور منافقت کا مظاہرہ کرنے والے اسے جنگ کو پاکستان کے حصے میں ڈال دیتےاور کشمیر کا معاملہ شاید ہمیشہ کے لیے ہی دب جاتا کہ پاکستان نے اس معاملے کو دنیا کے سامنے رکھنے کی بجائے خود حملہ کردیا پاکستان کو دنیا کے اہم ممالک اور یواین کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ اس جلد بازی میں ہم اپنے پراعتماد دوستوں کی حمایت بھی گنوادیتے۔ کل تک دنیا میں کشمیر سے ناواقف ممالک بھی آج کشمیر کے حق میں ٹھہرے ہیں تو یہ پاکستان کی کامیابی ہے۔

ایک انٹلیجنس رپورٹ کے حوالے سے بھی آپکو آگاہ کرتاچلوں پاکستان کو ایک رپورٹ بھی ملی تھی کہ پاکستان کو جنگ میں الجھا کر دنیا کی نظریں کشمیر سےہٹوادی جائیں گی ، سارا میڈیا اور انٹرنیشنل کمیونٹی کا سارا دھیان ایل او سی پر رہے گااو ر ہندوؤں کی بہت بڑی تعداد اسی عرصےمیں کشمیر میں آباد کردی جائے گی جس کا انڈیا کو فائدہ یہ ہو گا کہ جنگ تھمنے تک کشمیر میں مسلمان اقلیت میں بدل دیئے جائیں گے اور پاکستان کشمیر سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

ایک بات یاد رکھیے گا کہ افغان جنگ کے وقت بھی میڈیا نے بڑا رُول ادا کیا تھا جنہیں مال و متاع ملا تھا انہوں نے فوراًسارا ملبہ افغانستان پر ڈال دیا تھااور امریکہ نے بناء سوچے سمجھے افغانستان کا رُخ کیا اور آج اس کا حشر آپکے سامنے ہے، ویسے ہی پاکستان میں آپکو بہت سے لوگ ایسے ملیں گے جو کہیں گے بس ابھی ابھی جنگ کرو، ابھی ابھی گھس جاؤ اگر نہیں تو فوج بزدل ہے فوج بیکار ہے لیکن آپکو یہ نہیں بتائیں گے کہ دشمن کو چال سے ماردینا چیخنے چلانے سے کہیں بہتر ہے اور الحمدللہ پاکستان کو اللہ نے یہ صلاحیت دی ہے کہ پاکستان ہاتھ بھی نہیں لگاتا اور اتار بھی لیتا ہے۔ وہ آپکو یہ نہیں بتائیں گے کہ پاک فوج ایک وقت میں دشمن کی سینکڑوں پراکسیز جن میں افغانستان سے داعش، ٹی ٹی پی، پی ٹی ایم، بی ایل اے ، بی آراے، بی ایل ایف، افغانستان میں 50 ملکوں کی فوجوں اور پاکستان کے چپے چپے میں چھپے دہشتگردوں، سہولت کاروں ، غداروں ، راء، این ڈی ایس، موساد، ایم آئی سیکس، سی آئی اے ،اور ایسی کئی خفیہ ایجنسیوں سے بھی ساتھ ساتھ نبردآزما ہے۔

جبکہ اس کے مقابل دشمن ممالک کو سوائے آئی ایس آئی کے دوسری کسی ملک کی خفیہ ایجنسی سے کوئی خطرہ نہیں ایسی صورتحال میں پاک فوج کو 90 لاکھ کشمیریوں کابھی سوچنا ہے کہ انکا جانی نقصان کم سے کم ہو اور دشمن کو خاموشی سے مارا جائے جبکہ 22کروڑ پاکستانیوں کا بھی سُوچنا ہے جنہیں دشمن مٹانے کے لیے پاک فوج کی کسی ایک غلطی کامنتطرہے لیکن آپکو یہ نہیں بتایاجائے گا بس کہا جائے گا فوج نے کشمیر بیچ دیا حکومت نے کشمیر بیچ دیا ۔
میں آپکو ان شاءاللہ سچے دل اور یقین سے کہہ رہا ہوں آپ انڈیا سے کہیں وہ بتائیں انکے ساتھ کشمیر میں کیا ہورہا ہے تو آپکو دشمن ہی بتائے گا کہ انکا کیا حشر ہورہا ہے۔
افغانستان میں روس سے لیکر امریکہ تک ہم نے کسی کو ہاتھ نہیں لگایا اور انہیں الحمدللہ خاک میں ملا دیا مگر بھارت تو ازلی دشمن ہے اسے کیسے بخشا جاسکتا ہے۔ کشمیر کےلیے ہماری بھارت سے 3 جنگیں ہوئی ہیں، کشمیر کی ہی وجہ سے لاکھوں پاکستانی شہید ہوئے ہیں اگر کشمیر کے مؤقف سے پیچھے ہٹنا ہوتا تو اتنی قربانیاں دینے کی ضرورت ہی نہیں تھی آج جو محافظ دن رات جاگ رہے ہیں اور پاکستان اور کشمیر دونوں کو ہی بچانے کی تگ و دو میں ہیں وہ ہم سے ذیادہ کشمیر کے ہمدر دہیں اور ان شاءاللہ وہ اپنا کام بہت اچھے سے کررہے ہیں جن کی تفصیلات شئیر نہیں کرسکتا لیکن ان شاءاللہ انہوں نے بھارتی شہ رگ کو پکڑا ہےجس کا رُونا چند دن پہلے انڈیا میڈیا رُو چکا ہے لیکن یہاں میں تفصیل سے گریز کرونگا۔

پاک فوج اور حکومت وہ سب کچھ کررہے ہیں جو کرنا چاہیے اور ہرفورم پرکررہے ہیں مگر خاموشی سے چال چل کرجس کی سمجھ ہمیں کچھ عرصہ بعد دشمن کی چیخیں سُن کرآتی ہے۔ پاکستان کے اقدامات سے بھارت کی معاشی کمر ٹوٹنے کے قریب ہے جیسے انکی ائیرانڈین چند ماہ پاکستانی فضائی حدود بند رہنے سے دیوالیہ ہوگئی۔ انڈیا کی معیشت کا جنازہ ہی انڈیا کی موت ہے جس کے غرور میں دن رات بھارت معیشت معیشت کررہا ہے۔

کبھی چند لمحے ذرا یہ بات سُوچ کر دیکھیں کہ ہم باقی ہر پالیسی کو چھوڑ کر جنگ کو ہی ترجیح دےرہےہیں جس کے بارے پاک فوج بھی کہہ چکی ہے کہ ہر حد تک جائیں گےاور حکومت بھی تو اس کے بعد ہمیں ان پر اعتماد کراظہار کرنا چاہیئے کیونکہ جو کچھ انہیں معلوم ہوتا ہے ہم اس سے ناواقف ہوتے ہیں ہماری سُوچ محض یہ ہوتی ہے کہ ہمارے پاس نمبرون فوج ہے تو ہم کشمیر میں گھس کر آزاد کرالیں گے اور بات ختم ۔ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے پاک فوج نے یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ دشمن نے اگر یہ پتا پھینکا ہے تو اس سے وہ کیا کیا مقاصد حاصل کرناچاہتا اور پھر اسی کے مطابق پالیسی ترتیب دی جاتی ہے۔

فوراً جنگ کی بات تب بھی بالکل درست ٹھہرتی جب دُنیا میں پاکستان اور بھارت دُو ہی ملک ہوتے۔ لیکن یہاں دُنیا آباد ہے پاکستان مارتا بھی ہے اور گھسیٹتا بھی لیکن امن کی پکار کے ساتھ اپنے اردگرد بسنے والے کروڑوں لوگوں کی حفاظت کو مدِنظر رکھتے ہوئے جن میں بنگلہ دیش، مالدیپ، نیپال، بھوٹان اور سری لنکا جیسے کئی ملک ہیں جو اس جنگ کی بھینٹ چڑھ سکتے ہیں لیکن اس بات کا خیال انڈیا کبھی نہیں کرتا کیونکہ کوئی مرے جیے انڈین حکومت کو کوئی غرض نہیں۔ ابھی حالیہ دنوں میں سینکڑوں بھارتی فوجی جہنم واصل ہوچکے ہیں لیکن کسی نے نام تک نہیں لیا یہ انکی وقعت ہے۔ انڈین حکومتیں اپنےملک میں سینکڑوں لوگوں کو اس لیے مروادیتی ہے کہ پاکستان پر الزام لگا سکے تو آپکا کیا خیال ہے بھارت کے نزدیک کسی انسانی جان کی کوئی وقعت ہے؟

ہم دشمن کی ہر چال کو سمجھ کر اسی کے مطابق جواب دینا جانتے ہیں اور جواب دے رہےہیں ۔ جنرل آصف غفور کی بات کہ دشمن کے خلاف کامیاب چال وہی ہوتی ہے کہ جو دشمن کو حیران کردے اور ہر چال کے بعد ایک نیا راستہ موجود ہو۔ بھارت کے پاس جو جو راستے تھے وہ سب ختم کرچکا ہے مگر ہمارے پاس الحمدللہ سینکڑوں راستے ہیں۔ ابھی خالصتان باقی ہے، ابھی آسام ، ابھی حیدرآباد، ابھی مہاراشٹرا باقی ہے اور انڈیا کو ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک سرپرائز ملتا جائے گا بلکہ مل رہا ہے بس بھارت ڈھیٹ مریض کی طرح فی الحال درد دبا کے بیٹھا ہے کہ کہیں ڈاکٹر کڑوی دوائی نہ پلادے۔

پاکستان کشمیر کے ساتھ ہے تھا اور ہمیشہ رہے گاا ور ان شاءاللہ جب پاک فوج یہ بات کہہ چکی ہے کہ انڈیا آزادکشمیر کو بھول جائے اب پرانا قبضہ چُھڑانے کا وقت ہےتو یقین کریں واقعی میں اب پرانا قبضہ ہی چھڑانے کے وقت ہے۔ ہم امریکہ کے اتحادی تھے ہم نے مارا مگر ہم نے کہا ہم اتحادی ہیں، ہم انڈیا کو ماریں گے مگر ہم امن چاہتے ہیں۔ پاک فوج کشمیر میں جہاں جیسے نکلے گی وہ آپکی اور دشمن کی سُوچ ہی ہوگی۔
اعتماد رکھیں یقین رکھیں دشمن کی چیخیں آپکو سنائی دینے کا وقت قریب ہے ان شاءاللہ۔ یہ جنگ نہ معیشت کی ہے نہ زمین کی یہ جنگ نیوورلڈآرڈر کی ہے یہ جنگ مذہب کی ہے ان شاءاللہ یہ جنگ پاکستان کی ہے یہ جنگ اسلام کی ہے یہ جنگ حق و باطل کی ہے اور فتح ہمیشہ حق کی رہی ہے۔ اس وقت بہت سے لوگ اپنی دکانیں چمکائیں گے کچھ آپکو جذباتی کریں گے کچھ آپکو کہیں گے کہ بس صرف جنگ جنگ لیکن جہاں اپنے پرائے سب آپکے دشمن ہوں وہاں چال چلنا کہیں بہتر ہوتا ہے ۔ جنہوں نے کشمیر کے لیے لڑنا ہے وہ لڑیں گے بھی مریں گے بھی ماریں گے بھی لیکن بس آپ کو ان پہ اعتماد ہوناچاہیے دشمن اور دوست کا فرق معلوم ہونا چاہئے۔

About نیوز 9

Check Also

میٹروپولیٹن کارپوریشن کی بڑی نااہلی سامنے آگئی

( لاہور نیوزنائن امجد ملک ) میٹروپولیٹن کارپوریشن کے زیر کنٹرول شاہراہوں سے 54 فیصد …

جواب دیں